فاٹا میں گورنر خیبر پختون خوا کی تعلیمی ایمرجنسی کے باوٗجود لاکھوں بچےنصابی کتابوں سے محروم ہیں۔ مہمند ایجنسی کے سرکاری سکولوں میں 29000طلبہ کے پاس ایک کتاب بھی نہیں جبکہ 40000ہزار طلبہ کے پاس ایک یا دو کتابیں ہیں۔ امتحانات میں ایک ماہ باقی ہے مگر کسی کو فاٹا کے طلبہ کے مستقبل کی فکر نہیں۔مزید بتا رہے ہیں پاکستان ساگا کے نمائندے عبداللہ ملک اس رپورٹ میں۔

(116)

کیا مہمند ایجنسی میں بچوں کو تعلیمی سہولیات میسر ہیں ؟

ساگا ویڈیوز |
About The Author
-