گوادر جسے 8 دسمبر 1958 میں اسماعیلی برادری کے اڑتالیسویں امام پرنس علی سلمان محمد شاہ نےگوادر کی اسماعیلی کیمونٹی کے تعاون سے 30 لاکھ ڈالر کے عوض خرید کر حکومت پاکستان کو تحفے میں دیا ۔ گوادر کو مسقط کے شاہ نے صرف اس شرط پر فروخت کیا کہ گوادریوں کو عمان کی فوج میں بھرتی ہونے کی اجازت دی جائے گی ۔ گوادر میں عمانی عہد کی عمارتیں اب بھی موجود ہیں ۔
گوادر میں اسماعیلی برادری کی تاریخ 200 سو سال سے زیادہ عرصے پر پھیلی ہوئی ہے ۔ جب انیسویں صدی کے آخر میں قحط پڑا تو کیج اور کیٹی بندر کے علاقوں سے اسماعیلی کیمونٹی ہجرت کر کے یہاں آباد ہو گئی ۔
گوادر کی قدیم اور خاص طرز پر بنی ہوئی گلیوں سے گزر کر آپ اسماعیلی کیمونٹی کے اس جماعت خانے پہنچتے ہیں ۔
اس جماعت خانہ کی تعمیر 1864 میں شروع ہوئی اور 1910 میں مکمل ہوئی ۔ اس عمارت کو سمندر کی ہوا اور گرمی سے بچانے کے لیے خاص انداز میں تعمیر کیا گیا ۔
گوادر میں اس مقام پر آج بھی سو سے زائد اسماعیلی خاندان آباد ہیں ۔ بڑی تعداد میں لوگ روزگار کے لیے ملک اور بیرون ملک چلے گئے ہیں تاہم گوادر سے ان کا رشتہ آج بھی قائم ہے ۔
پاکستان ساگا کے لیے سبوخ سید ، گواد

(21)

جب اسماعیلیوں نے گوادر کا سودا کر لیا تھا۔

ساگا ویڈیوز |
About The Author
-