شوکت علی کلارنٹ بجاتے ہیں اورا ن کی تمام عمر موسیقی کے اس ساز کی ریاضت کرتے گزری ہے ۔ وہ بتاتے ہیں کہ بچپن ہی میں ا ن کے والد نے انہیں یہ ساز سیکھنے کی ذمہ داری عائد کردی تھی۔ اب ان کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ پاکستان میں کلارنٹ کا کوئی مستقبل دیکھتے ہیں تو انہوں نے افسردگی سے جواب دیا ۔ اگر کلارنٹ کا کوئی مستقبل ہوتا تو میں اپنے بچوں کو بھی یہ ساز سکھاتا ۔ جرمن مصنف یان پال رچر نے لکھا تھا کہ موسیقی ہوا کی شاعری ہے۔ اگر یہ سچ تھا تو ہماری ہواؤں سے شاعری رخصت ہورہی ہے۔ پاکستان ساگا کے لئے امر بلال نے یہ رپورٹ بھیجی ہے۔

(20)

کلارنٹ :ایک قدیم ساز کی کہانی

ساگا ویڈیوز |
About The Author
-