برصغیر پاک و ہند میں جب بھی کسی کے دل سے رام رحیم کا جھگڑا ختم ہوا تو اس کے قدم اس کے من کی لَے پر اٹھنے لگے اور وہ بلھے شاہ کے حلقے میں جا بیٹھا۔ یہاں فقیروں پر آنے جانے کی کوئی روک ٹوک نہیں ہے اور جہاں من کی لَے پر ناچنے سے کسی کا دھرم بھرشٹ نہیں ہوتا۔کہتے ہیں کہ بلھے شاہ زندہ تھا تو شریعت کے پابند علمائے کرام اس کی مخالفت کیا کرتے تھے کیونکہ وہ ملامتی صوفی تھا اور ملامتیوں کی علتوں کو بہت بے باکانہ انداز سے اپنائے رکھتا تھا۔ وہ قدم قدم پہ محتاط فکر پاک بازوں پہ چوٹ لگاتا اور انہیں اپنی بے ساختہ کافیوں سے آرزودہ کیے رکھتا۔آج بھی مذہبی ہم آہنگی اور احترام آدمیت سیکھنے کے خواہش مند بابابلھے شاہ کے کلام سے استفادہ کرتے ہیں ۔ ہمارے ساتھی احمد فرید نے پاکستان ساگا کے لئے قصورمیں بابا بلھے شاہ کے مزار سے رپورٹ بھیجی ہے۔

(24)

انسانیت کا صوفی بلھے شاہ

ساگا ویڈیوز |
About The Author
-