اکثر لوگوں کا یہ خیال ہےکہ کھیلوں میں مہارت کے لئے جنس کی تفریق لازمی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ کچھ ایسے مشکل کھیل اور مشاغل ہیں جو خواتین نہیں کرسکتیں ، اونچے پہاڑوں کی مشکل چوٹیاں سر کرنا انہی میں سے ایک ہے ۔ لیکن پشاور کی عظمیٰ یوسف ان تصورات کو بدل دینا چاہتی ہیں ۔ وہ پاکستان میں موجود 8 ہزار فٹ کی بلند چوٹیاں نہ صرف کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں بلکہ وہ ایسی 2 چوٹیاں مینڈلین اور رشپیک پہلے ہی سر کر چکی ہیں ۔ خیبر پختونخواہ حکومت نے انہیں فخر پشاور کا خطاب دیا ہے ۔ 2 جوان بیٹوں کی والدہ جواں ہمت عظمیٰ کی کہانی کے متعلق مزید جانئے کے لئے دیکھئے پاکستان ساگا کی یہ رپورٹ

(22)

پشاور کی عظمیٰ یوسف: عزم و ہمت کی داستان

ساگا ویڈیوز |
About The Author
-